کیا خدا نے مجھے چھوڑ دیا ہے؟
ایک بادشاہ اور اُس کی رحم دِلی
علیم کی دوستی ایک بہت ہی امیر اور رحم دِل بادشاہ کے ساتھ تھی۔ بادشاہ نے علیم کو اُس کی نو عمری ہی سے پالا پوسہ تھا۔ وہ اُس سے بے اِنتہا محبت کرتا تھا۔ اُس کی ہر چیز اور ضرورت کا خیال رکھتا تھا۔ ایک دِن بادشاہ نے عہد کیا کہ علیم کو محل میں ایک خاص جگہ بنوا کر دے گا۔ جہاں وہ محل میں موجود تمام سہولیات سے لُطف اَندوز ہو سکے گا۔ اُس نے علیم کو ایک خوب صورت گھر بنا کر دیا اور وہاں دُنیا کی تمام آسائشیں اُس کے لئے رکھیں۔ بادشاہ ہمیشہ علیم کے ساتھ بڑی شفقت و محبت سے پیش آتا اور جب بھی اُسے موقع ملتا وہ اپنے فارِغ اوقات علیم ساتھ گزارتا۔ کیوں کہ وہ اُسے اِنتہائی عزیز تھا۔
بادشاہ کا خفیہ کمرہ
بادشاہ کے محل میں ایک خاص کمرہ تھا جس کے بارے آج تک کسی کو نہیں پتا تھا اور نہ ہی کبھی بادشاہ نے مُشیروں، وزیروں یا کسی کو کبھی اُس میں داخل ہونے سے اِجازت دی تھی۔ بادشاہ نے علیم سے کہا کہ میرے پیارے دوست اِس محل میں موجود ہر چیز آپ کے لئے مئوثر اور دستیاب ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ اُس خاص کمرے میں آپ کبھی نہ جائیں۔ وہاں جانے پر خاص پابندی ہے۔ اِس محل کے قوانین کے مطابق جس نے بھی اُس تک پہنچنے کی کوشش کی ہے اُسے میں چاہ کر بھی نہیں بچا سکتا۔
باغی وزیر
بادشاہ کے اپنے محل میں اُس کے کچھ وزریر تھے جو علیم پر اِس قدر خاص مہربانیوں کی وجہ سے بہت رنجیدہ تھے۔ وہ اُس سے حسد کرتے تھے وہ ہر ایک چیز اُس پر لُٹاتا ہے۔ اِسی وجہ سے وہ بادشاہ سے بھی ناراض رہتے تھے۔ وہ کسی نہ کسی طرح علیم کو بادشاہ کی نظر میں حقیر اور بے وفا ثابت کرنے پر تُلے تھے۔ اُنہوں نے سوچا کہ بادشاہ تو علیم کی ہر بات پر یقین کرتا ہے اور کبھی بھی اُسے نکالنے کا سوچے گا بھی نہیں۔ لیکن ایک جگہ تھی جہاں بادشاہ کسی بھی صورت علیم کو برداشت نہیں کرے گا، وہ تھا وہ خاص کمرہ جس میں جانے پر خاص پابندی تھی۔ اُس دِن کے بعد اُنہوں نے منصوبے بنانا شروع کر دیئے کہ کسی طریقے سے وہ علیم کو ورغلا کر بادشاہ کا نا فرمان بنا ڈالیں۔
علیم کوپھانسنے کی چال
ایک دفعہ جب علیم محل کے اندر چہل قدمی کر رہا تھا ایک وزیر نے پاس آ کر اُس سے کہا کہ جناب علیم! کیا آپ کو پتا ہے کہ اُس کمرے میں کیا خاص ہے جس وجہ سے بادشاہ نے وہاں جانے پر پابندی لگا رکھی ہے؟ علیم نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ نہیں مجھے اُس کے بارےبس یہی پتا ہے کہ اُس طرف جانے پر سخت پابندی ہے اور اِس لئےکبھی وہاں جانے کی کوشش بھی نہیں کی اور اُسے بھی اِنتباہ کرتے ہوئے وہاں سے جانے کا حکم دیا۔
لیکن کچھ دِنوں ک بعد پھر اُسی وزیر نے علیم کو تحریک دیتے ہوئے بنانا شروع کیا کہ اُس کمرے میں ایسا خاص قیمتی پتھر ہے جسے اگر کوئی بھی شخص حاصل کر لے تو وہ خود بادشاہ بن جائے گا۔ علیم نے حیرانی سے اُس وزیر کو ڈانتا اور کہا فوراً یہاں سے چلے جائو! کیا تمہیں نہیں پتا کہ بادشاہ ہم سب اِتنی محبت کرتا ہے اور ہمارا خیال رکھتا ہے۔ پھر ہمیں کیوں اُس کی حکم عدولی اور نا فرمانی کرنی چاہئے۔
علیم ہار گیا
لاکھ منع کرنے کے با وُجود وہ کسی نہ کسی بہانے سے علیم کا دھیان اُس کمرے کی جانب لگاتے رہتے۔ حتیٰ کہ ایسا وقت آیا جب علیم بھی اُن باتوں میں گرفتار ہونے لگا اور وہ بھی اُس کمرے میں موجود اُس خاص پتھر کے متعلق متجسس ہونے لگا۔ وہ سوچنے لگا کہ کیا واقع اُس میں اِس قدر پتھر ہے جس بنا پر کوئی بھی شخص بادشاہ بن سکتا ہے؟ وہ دِن رات اِنہی خیالات میں رہنے لگا لیکن پھر بھی وہ بار بار خود کو بادشاہ کے احترام اور محبت کے واسطے دے کر سمجھاتا کہ اُسے ایسا نہیں کرنا چاہئے ، لیکن جب بھی وہ وزیر اُس کے سامنے آتے وہ پھر اُنہی خیالات میں گِر جاتا۔ ایک دِن وہ اِسی کش مکش میں اپنے بستر پر لیٹا سوچا کروٹیں بدلتا رہا لیکن نیند نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ اچانک سے کمرہ کھول کر دیکھنے کی آزمائش اُسے شدید ستانے لگی اور بالآخر آدھی رات کو اُس نے اُس کمرے میں جانے کا فیصلہ کیا۔ جب وہ دبے پائوں اُس کمرے داخل ہوا تو اُس نے وہاں تارِیکی اور خاموشی دیکھی۔ وہ اُس پتھر کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھرنے لگا ، لیکن اُسے وہاں کچھ بھی نہ ملا۔ جب وہ کچھ آگے بڑھا تو اُسے ایک صندوق پڑا ملا ، اُس نے اُسے کھولا تو اُس میں ایک طومار ملا۔ جب اُس نے اُس وہ طومار کو کھول کر پڑھنا شروع کیا تو وہاں لکھا تھا ” تُو تولا گیا پر کم نکلا “ یہ پڑھتے ہی علیم زاروقطار رونے لگا اور اپنے کئے پر خوب پچھتاتا رہا۔
بادشاہ کا رنج
جب رونے اور چلانے کی آوازیں اُس کمرے سے باہر آنے لگیں تو جلد ہی محل میں موجود مُلازمین اور وزیروں ایک بڑی بھیڑ لگ گئی۔ فی الفور وہ خبر بادشاہ کو بھی پہنچا دی گئی۔ بادشاہ یہ سُن کر بہت رنجیدہ ہوا اور چِلا اُٹھا کہ ”اے علیم یہ تُو نے کیا کِیا؟ ۔ “ یہ دیکھ کر وہ باغی وزیر وہاں موجود بھیڑ کو اُکسانے لگے کہ اب دیکھتے ہیں کہ بادشاہ کیسے اپنے قوانین کو توڑ کر اپنے لاڈلے دوست کو بچاتا ہے۔ بادشاہ اپنے عزیز دوست کو کھونا نہیں چاہتا تھا لیکن اُس کو بچانے کے لئے بھی کچھ نہیں کر سکتاتھا۔ کیوں کہ وہ اگر اپنے قوانین کو توڑتا تو بے اِنصاف ٹھہرتا اور اگر وہ اُسے سزائے موت دیتا تو وہ اپنی محبت میں ناکام ہوتا۔
اب بادشاہ کسی بھی صورت علیم کو کھونا نہیں چاہتا تھا لیکن وہ وہاں کھڑی رَعایا کے سامنے اپنے قوانین کی کی دھجیاں بھی نہیں اُڑا سکتا تھا۔ قانون کے تقاضے کے تحت تو اُسےفوری مرنا تھا لیکن بادشاہ کی شفقت اور محبت سے بھری فطرت اِس کی اِجازت نہیں دے رہی تھی۔ اِس نافرمانی کی سزا دیئے بغیر علیم کو محل میں رہنے دینا بھی ممکن نہیں تھا۔
منصف و شفیق بادشاہ
چونکہ بادشاہ علیم کو مرنے سے بچانا چاہتا تھا لیکن بادشاہ جانتا تھا کہ علیم کسی بھی طرح اپنی اِس نا فرمانی کی قیمت ادا نہیں کر سکتا ۔ اِس لئے اُس نے کچھ دیر سوچ بچا ر اور مشاورت کے بعد اَعلان کیا کہ ہم علیم کی اِس غلطی کا اَزالہ بھر یں گے ۔ فی الحال علیم کو محل کو چھوڑ کر جانا ہو گا لیکن مناسب وقت پر ہم اُس کے لئے واپسی کا اِنتظام کریں گے اور وہ پھر محل میں اپنی جگہ آزادی سے رہ پائے گا۔ پھر بادشاہ نے اپنے دِل کو تھامتے ہوئے اور اُس سے شاہی لباس سمیت تمام تر مراصلات ہوئے ، ساری رَعایا کے سامنے علیم کو محل کی تمام تر حدود سے بے دخل کرنے کا اَعلان کر دیا۔
علیم کی بے دخلی
یوں وہ حاسد وزیر علیم کو محل سے بے دخل کرنے میں کامیاب رہے۔ اب علیم محل سے باہر بے یار و مددگار تنہائی میں بادشاہ کی جانب سے واپسی کے بُلاوے کا اِنتظار کرنا تھا ۔ وہ دِن رات اپنی اُس شاہانہ زِندگی اور بادشاہ کے ساتھ گزارے لمحات یاد کر کے روتا رہتا لیکن اب وہ سوائے اِنتظار کےکچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ وہ محل کےباہر جنگل بیابان میں پھرتا رہتا۔ اُسے لگا کہ شاید بادشاہ آج یا کل واپسی کی نوید بھیج دے گا لیکن اِس اِنتظار میں کئی سال بیت گئے لیکن کوئی خبر نہ آئی۔اب بادشاہ کسی بھی صورت علیم کو کھونا نہیں چاہتا تھا لیکن وہ وہاں کھڑی رَعایا کے سامنے اپنے قوانین کی کی دھجیاں بھی نہیں اُڑا سکتا تھا۔ قانون کے تقاضے کے تحت تو اُسےفوری مرنا تھا لیکن بادشاہ کی شفقت اور محبت سے بھری فطرت اِس کی اِجازت نہیں دے رہی تھی۔ اِس نافرمانی کی سزا دیئے بغیر علیم کو محل میں رہنے دینا بھی ممکن نہیں تھا۔
محل سے باہر کی دُنیا
شروع میں تو علیم باہر کی دُنیا کا عادی نہ تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ باہر کی دُنیا میں رہنے پر مجبور ہو گیا۔ اُس نے اپنا خاندان وہاں بسایا اور اپنے گزر بسر کے لئے محنت مُشقت کرنے لگا۔ یوں اُس کے بیٹے بیٹیاں پیدا ہوئے اور وہ اپنے محدود وسائل میں ایک عام اور سادہ زندگی بسر کرنے لگا۔لیکن ایک چیز جس کا وہ ہمیشہ سے اِنتظار کرتا رہا وہ بادشاہ کی طرف سے بحالی کی خبر تھی۔ بادشاہ کے ساتھ اُس کے تعلقات اور محل میں اُس رہائش کی کہانیاں وہ اپنے بچوں کو سنارتا رہا ۔ وہ اُس اُمید کے بارے بتاتا رہا کہ ایک دِن ہم پھر اُ س محل میں بادشاہ کے ساتھ اُسی رِشتے میں بحال ہو جائیں گے۔ علیم کی اَولادمحل میں واپسی کےخواب دیکھنے لگی۔
اِسی اِثنا میں علیم کے چند ایک بیٹوں نے سوچا کیوں نہ ہم کسی طریقے سے بادشاہ کو یاد کر وائیں کہ ہم علیم کی اَولاد ہیں اور وہ اُس کے کئے وعدے کا اِنتظار کر رہے ہیں ۔ یہ بھی کہیں کہ آپ ہمیں واپس محل میں رہنے کی نوید دیں۔ وہ کئی بار محل کے باہر جا کر بادشاہ سے مُلاقات کے خواہاں ہوئے لیکن ناکام رہے۔ اب علیم کا سر چاندی ہونے لگا اور وہ اپنی آخری سانسیں بھرنے لگا۔ اُس نے اپنے بچوں کو اِکٹھا کیا اور اُنہیں تلقین کی کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے بادشاہ سے رابطہ کرتے رہیں اور کوشش کر کے اُس کے ساتھ صلح اور بحالی کی طرف جائیں۔
میراث میں بگاڑ
علیم کی وفات کے بعد اُس کی اَولاد اب کئی قبیلوں کی شکل اِختیار کر چکی تھی اور وہ جابجا رہنے لگے تھے۔ بادشاہ اور محل کے ساتھ اُن کے بزرگ علیم کے تعلق اور واپسی کی اُمید کے بارے میں اب اُن کی نسلوں میں اِختلافات پیدا ہو نےلگے تھے۔ وہ کہانی نسل در نسل بگڑتی اور مختلف صورت اِختیار کرتی جا رہی تھی۔ چند نسلوں کے بعد علیم کے نکالے جانے اور واپسی کے لئے بادشاہ کے وعدے کی کہانی قیاس آرائیوں کا شکار ہو گئی۔ کچھ لوگوں نے اپنے بزرگ کی عزت رکھنے کے لئے آئندہ نسل کو اصل بات بتانے کی بجائے خود ساختہ کہانی سنائی۔ کچھ نے کہا کہ در اصل بادشاہ نے خود ہی ایک سازش کے تحت اُسے نکالنے کے لئے چال چلی تھی تاکہ لوگوں میں اُس کی عزت بھی کم نہ ہو اور علیم سے بھی اُس کی جان چھوٹ جائے۔ جبکہ کئی علیم کی اُس کہانی پر سرے سے ہی یقین نہیں کرتے تھے کہ ایسا تو ممکن ہی نہیں کہ ہم اِتنے حقیر اور ہمارا بزرگ اُس میں محل میں شاہانہ زندگی گزارتا ہو گا۔ اِس طرح علیم کی نسل محل اور واپسی کے اُس وعدے کے متعلق مختلف فرقوں کا شکار ہو گئی۔
و ہ بٹک ہی گئے
وہ باہر کی دُنیا میں اِس قدر مگن اور مسرور ہو چکے تھے کہ کئی لوگ تو اپنی اِس زندگی کو ترک کر کے واپس جانا ہی نہیں چاہتے تھے۔ بعض کی تو اِنتظار کرتے کرتے اُمید بھی دم توڑ چکی تھی۔ مگر پھر بھی کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو اُس اصل واقعے کے تحت واپسی کی راہ کی تلاش جاری رکھے ہوئے تھے۔ وہ بارہا محل کے پاس جاتے ، وہاں موجود لوگوں سے ملتے اور بادشاہ کو ملنے کی کوشش کرتے۔
بعض اوقات اُن میں سے کچھ باغی اور مفاد پرست اِشخاص لوگوں کو واپسی کے جھوٹے دِلاسے دے کر اُنہیں لوٹے اور گمراہ کر کے اپنی روٹی کما لیتے ۔ کچھ محل اور بادشاہ کے ساتھ مُلاقات کے جھوٹے قصے سُنا کر لوگوں کو اپنی طرف مائل کر لیتے ۔ اِس طرح وہ ایک دُوسرے کو مات دینے کے لئے جھوٹ اور دھوکے پر مبنی سازش میں مُبتلا ہو کر بٹک ہی گئے۔ دراصل اُن میں سے کسی کا بھی کبھی کوئی رابطہ ہو ا ہی نہیں تھا۔
بادشاہ کو خوش کرنے کی کوششیں!
کچھ لوگوں نے سوچا کہ شاید بادشاہ ہمارے بزرگ سے ناراض ہے اگر ہم اُسے خوش کریں گے تو شاید ہم اُسے منا لیں گے۔ اُنہوں نے بادشاہ کے نام سے مختلف سرگرمیاں کرنا شروع کر دیں۔ کبھی وہ اچھے سے اچھا تحفہ یا نذرانہ لے کر اُس کے محل کے باہر جاتے۔ کوئی ہر روز جا کر اُس محل کے دروازے پر اُونچی اُونچی بادشاہ کی تعریفیں کرتا تو کوئی اپنے مال و متاع کے وسیلے محل میں جانے کی کوشش کرتا۔ لیکن وہ کبھی بھی بادشاہ کی جانب سے کچھ رَدِ عمل نہ پا سکے۔ کیوں کہ وہ اُس سے اپنے محدود اور غیر کامل وسائل سے اُسے منانے اور واپس اندر جانے کی توقع کر رہے تھے۔
سُننے میں دھیرے
خودی اور شخصیت پرستی کی ہار جیت میں ایک چیز جس میں علیم کی آئندہ نسلوں نے نقصان اُٹھایا وہ تھا سُننے میں دھیرے۔ جب سارے اپنی اپنی کوششوں سے خود پرست بن کر بادشاہ کی جانب بڑھنے کی بے سود کوششیں کر رہے تھے تو اُس دوران اُنہوں نے واپس جانے کے کئی مواقعے ضائع کر دیئے۔ دراصل علیم کی جدائی کا سب سے زیادہ دُکھ جس کو تھا وہ بادشاہ خود تھا۔ وہ اُس دِن ہی سے علیم کی واپسی کا خواہاں تھا اور مناسب وقت پر اُس کی واپسی کا اِنتظام کرنے میں مصروف تھا۔
بادشاہ کا پیغام آ گیا
بادشاہ جانتا تھا کہ علیم اب ایک واحد شخص نہیں رہا بلکہ اُس کا ایک کثیر خاندان ہے اور وہ اُن میں سے کسی بھی ہلاکت نہیں چاہتا تھا بلکہ چاہتا تھا کہ اُن میں سے ہر شخص محل واپس آ کر رہے، لیکن چونکہ وہ گناہ جو علیم نے کیا تھا قانون کے مطابق تو کسی نہ کسی کو سزائے موت دینی ہی تھی ورنہ وہ قانون نہ قانون رہتا ۔ ایک دِن آیا جب بادشاہ نے علیم کی اُس غلطی کا اَزالہ بھرنے کے لئے اُس کی جگہ ایک اور شخص مقرر کر دیا تاکہ وہ اُ س کی جگہ اُس سزا کو اُٹھائے جو کہ علیم خود نہیں کر سکتا تھا۔ علیم اور اُس کے خاندان کو اب اُنہیں کچھ بھی قیمت ادا کرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ پھر اُس نے اپنے ایک وزیر کو بھیجا کہ وہ جائے اور علیم کی نسل کو خوش خبر ی سُنائے کہ وہ آئیں اور اُس اِنتظام کے تحت واپس اپنے بزرگ کے گھر میں اُسی تعلق اور آسائش میں رہیں۔
باغی وزیروں کی چال اور رُکاوٹ
یہ دیکھتے ہیں اُن باغی وزیروں کے گھرانے بھی متحرک ہو گئے۔ اُنہوں نے اُس پیغام کو علیم کے خاندان تک پہنچنے کی حت الواسع کوششیں جاری کر دیں۔ بعض دفعے وہ اُن خوش خبری دینے والے وزیروں کو باہر جانے سے ٹال دیتے اور بہت دفعہ وہ باہر والوں کو پھسلا کر اُن خوش خبری دینے والے وزیروں کو مروا ڈالتے۔ یہ ہی نہیں بہت دفعہ اگر کوئی شخص خوش خبری لے کر اُن تک پہنچ جاتا تو وہ وہاں کے مقامی لوگوں میں اُن دیگر جھوٹے منادوں کی طرح اُن کو بھی غلط قرار دے دیتے اور کہتے کہ یہ شخص دراصل بادشاہ کی جانب سے نہیں ہے بلکہ وہ من گھڑت شخص ہے۔ حتٰی کہ بہت سے قبیلوں کو تو اُنہوں نے اِس قدر ورغلایا کہ وہ اُن کے ساتھ مل کر بادشاہ کے تخت کے خلاف سازش میں ملوث ہو گئے۔
شاہی فرمان میں رَد و بدل
بادشاہ جب بھی کسی کو وہ خوشی کا پیغام دے کر بھیجتا وہ کسی نہ کسی طرح اُن تک پہنچنے میں مکمل کامیاب نہ ہو پاتا۔ یا تو وہ خبر ادھوری رہ جاتی یا اُس میں ملاوٹ کر دی جاتی۔ اِدھر علیم اور اُس کے بعد اُس کی کئی نسلیں بادشاہ کی جانب سے واپسی کی خبر کا اِنتظار کرتے تھک گئے لیکن اُدھر بادشاہ کئی دہائیوں سے اُسے واپسی کے لئے خوشی کی نوید بھیجتا رہا۔ اُس نے کئی ایک وزیروں اور لوگوں کو بھیجا کہ وہ علیم اور اُس کے گھرانے کے لوگوں تک یہ خبر پہنچائیں کہ بادشاہ نے اُس نا فرمانی کی قیمت ادا کر دی ہے ۔ وہ بگڑتے ہوئے اِس حد تک پہنچ گئے کہ اُنہوں نے بادشاہ کے کئی منادوں کو یا تو نظر انداز کر دیا اور یا پھر اُن کو جھوٹے و غلط جان کر سخت مخالف سے اُنہیں مار ڈالا۔
اِس طرح ایک طرف لوگ خود ساختہ طریقوں سے واپسی کی کوشش کرتے رہے اور دُوسری طرف اصل خبر اُن تک پہنچنے میں مُشکل کا شکار رہی۔ بہت سے لوگوں نے اپنے بل پوتے پر باہر سے داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ایسا کرنا بالکل بے کار اور فضول تھا کیوں کہ جب تک اندر سے کوئی آنے کی اِجازت نہ دے تو باہر سے کوئی بھی اپنی مرضی سے داخل نہیں ہو سکتا تھا جبکہ یہ تو صرف بادشاہ کی مرضی اور اُس کے بتائے ہوئے راستے سے ہی ممکن تھا۔
لیکن کوئی بھی بادشاہ کے بتائے ہوئے راستے کو سمجھنے اوراُس پر یقین کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ بادشاہ نے بار ہا کوششیں کیں لیکن کسی نے اُس شاہی فرمان کی کی قدر نہ کی بلکہ وہ ہمیشہ اُسےرَد کرتے رہے ۔چونکہ اُن کے بزرگوں نے کئی دہائیوں سےمحل میں واپسی کے اِس قدر جتن کئے تھے اورقیمتیں ادا کیں تھیں کہ اُن کے لئے اِس قدر آسان اور مفت واپسی کی خبر سُننا عقل ِ کل سے باہر تھا۔ وہ کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ جس اُمید کو پانے کے لئے اُنہوں نے اپنی نسلیں تباہ کر دیں اُس کو پانا اِتنا آسان کیسے ہو سکتا ہے کہ محظ بادشاہ کی ادا کردہ قیمت کوقبول کریں، اپنے بزرگ سے ہوئی غلطی کا اور اپنی نافرمانی کا اعتراف کریں اور محل میں واپس چلے جائیں۔ اُن کے سوچ و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ واقع ہی اِتنا آسان اور سستے داموں ہو سکتا ہے۔
بادشاہ کا کارِ خاص
بادشاہ کی بار ہا کوششوں کے با وجود لوگ اِس قدر تفریق زدہ اور بے راہ روی کا شکار ہو چکے تھے کہ وہ اِس سادہ اور حقیقی بُلاوے کو سمجھ نہ سکے۔ وہ من مرضی سے اُس شرف کو حاص کرنے میں مگن رہے۔ بادشاہ پُر شفیق ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عاقل اور مُستقل مزاج شخصیت کا بھی مالک تھا۔ وہ کسی بھی قیمت پر علیم کے ساتھ کئے وعدے کو بھولنے اور ختم کے لئے تیار نہ تھا۔ لہٰذا بادشاہ نے ایک دِن فیصلہ کیا کہ وہ علیم اور اُس کے گھرانے کے اُن معصوم اور بے گناہ لوگوں کو باغی ، سر کش اور خود پرست لوگوں کے چنگل سے چھڑاکر ہی دم لے گا۔
اُس نے ایک دِن اپنے ایک کارِ خاص کو اپنے پاس بُلایا اور کہا کہ تمہیں تو معلوم ہے کہ ہم اپنے دوست کے ساتھ کئے وعدے کو پورا کرنا چاہتے ہیں اور اُس کی واپسی کا اِنتظام بھی ہو چکا ہے صرف اِس خبر کو اُن تک لے جانا اور اُن کو سمجھا نا اِتنہائی مُشکل ہو تا جا رہا ہے۔ کیوں کہ اُن میں کچھ تو محل میں آنا اپنا حق سمجھتے ہیں، کچھ وہاں موجود آسائشوں میں اِس قدر کھو چکے ہیں کہ وہ آنا ہی نہیں چاہتے اور کچھ نہ خود اِس تک پہنچ پا رہے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو بھی آنے دے دیتے ہیں۔ اب آ جا کےایک ہی راستہ بچا ہے کہ اگر تُم یہ شاہی پیغام لے کر خود اُن کی بستیوں میں جائو اور اُن کو یہ دعوت نامہ دو کہ وہ محل میں اپنی اصل جگہ واپس آ جائیں۔
آخری حربہ
آج محل میں ہر طرف ماحول معمول سے زیادہ خوش نما ہے۔ ہر طرف بھر بور تیاریاں ہو رہی ہیں اور محل کی خاص طہارت ہو رہی ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ آج ایک خاص اُمید بھر آنے کا موقع ہے۔ بادشاہ کے کارِ خاص نے فیصلہ کیا کہ وہ علیم کے گھرانے کے لوگوں سے خود ملنے جائے گا ۔ اُن کو دعوت نامہ دے گا۔
محل کے مشیروں نے اُن کو اِنتباہ کیا کہ وہاں جانا جان لیوا بھی ہو سکتا ہے اور اُنہوں نے اُس کی حفاظت کے لئے کچھ سپاہی بھی بھیجنے کی تلقین کی، اپس کارِ خاص نے اُس سب سے منع کر دیا ۔ اُس نے کہا کہ میں شاہی لباس اور شاہانہ طور سے اُن کے پاس نہیں جا سکتا بلکہ مجھے اُن جیسا بن کر، اُنہی کی طرح کے رہن سہن کو اپنانا ہوگا تاکہ میں واقع اُن کو محبت اور بغیر کسی دبائو سے بادشاہ کے پاس واپس لائوں۔ گو کہ میرے پاس پیغام تو شاہی ہے لیکن وہ اُس وقت تک اُسے حقیقت نہیں مانیں گے جب تک یہ پیغام اُن کی اپنی سمجھ اور دانش کے مطابق نہ دیا جائے۔ لہٰذہ وہ نسلِ علیم کو واپس لانے کے اِس خاص کام کے لئے سفر کا آغاز کرتا ہے۔
آخری چال
جب یہ خبر اُن باغی وزیروں تک بھی پہنچی تو وہ دنگ رہ گئے۔ اُنہوں نے کھی سوچا بھی نہیں تھا کہ بادشاہ اِس حد تک علیم کے ساتھ کئے وعدے اور محبت میں سنجیدہ ہے کہ اُس اپنے کارِ خاص کو ہی دائو پر لگا دیا ہے۔ اِس بار اُن کا سامنے آکر اُس کو روکنا مُشکل تھا کیوں کہ پہلے تو وہ کسی نہ کسی طریقے اُن شاہی پیغامات کو روک دیتے تھے، لیکن اِس دفعہ یہ کُلیہ بھی کام نہیں کر سکتا تھا۔ لہٰذہ اُنہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم باہر جا کر لوگوں کو پہلے ہی اُس کے خلاف کردیں اور اُس پیغام کو کسی نہ کسی طرح مسق کروادیں۔ یوں اِس سے پہلے کہ بادشاہ کا کارِ خاص وہاں پہنچتا ، اُن وزیروں نے وہاں کے کچھ شدت پسند اور با اثر لوگوں کو شاہی اِختیارات اِستعمال کرتے ہوئے اُس خوش خبری کے خلاف اُبھارا۔
اُنہوں نے سوچا کہ اگر ہم بادشاہ کے کارِ خاص کو مار ڈالیں گے تو پھر ہمیشہ کے لئے ہم اپنی حکومت اور بادشاہی بنا لیں گے اور یہ لوگ سدا ہمارے غلام بن جائیں گے کیوں کہ اُن کے پاس کوئی اُمید نہیں ہو گی۔ اور بادشاہ کو بھی یہ لگے گا کہ شاید اب وہ میری محبت کے قا بل نہیں رہے ۔ بادشاہ سخت نفرت اور رنج میں علیم کے ساتھ کئے اُس وعدے کو چھوڑ دے گا۔
محنت رنگ لے آئی
جب بادشاہ کا کارِ خاص وہاں پہنچا تو مختلف لوگوں نے اُسے مختلف نگاہ سے دیکھنا شروع کیا۔ کچھ اُسے شک کی نگاہ سے دیکھتے رہے، کچھ اُس کو آزمانے کی کوشش کرتے رہے اور کچھ تو اُس پر سخت اور بے بنیاد اِلزام لگا کر پکڑوانے کی کوشش کرتے رہے۔ پھر بھی وہاں چند ایک لوگ تھے جن کو اُس ہل چل اور بھاگم بھاگ میں بادشاہ کے اصل بُلاوے کی سمجھ آنے لگی اور وہ اُس خبر کا یقین کر نے گلے۔ اور پُر اِطمنان ہو کر اُس وقت کا اِنتظار کرنے لگے جب بادشاہ محل کا دروازہ کھول دے گا۔ اُن کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ وہ کبھی بھی اپنی کوشش سے بادشاہ کو مجبو ر نہیں کر سکتے کہ وہ اُنہیں محل میں رہنے دے۔ کیوں کہ نہ تو بادشاہ مال و دولت کا متلاشی ہے اور نہ ہی اُسے کسی کی مدد کی ضرورت ہے۔ وہ صرف اپنے بنائے ہوئے قوانین کا خود ذمے دار ہے۔ اُسے نہ تو کوئی مجبور کر سکتا ہے اور نہ ہی ورغلا کر اُس کے پاس جا کر رہ سکتا تھا۔ اِس طرح کارِ خاص کی آمد بہت سوں کے لئے حقیقی خوش خبری ثابت ہوئی ۔ وہ اُس خبر پر ایمان لےآئےاور بادشاہ کے دعوت نامے کو قبول کر کے اُس وقت کا اِنتظار کرنے لگے کہ ایک دِن ہم اُس بڑی ضیافت میں شامل ہوں گے جو بادشاہ نے اپنے پیارے دوست علیم کے گھرانے ک لئے تیار کر رکھی ہے۔
کارِ خاص کا قتل
جہاں بادشاہ کا خاص پیغام بہت سے لوگوں کے دِل موہ رہا تھا وہاں ہی وہ باغی وزیر مقامی شدت پسند گروہوں کے ذریعے اِس تیزی سے پھیلتے کام کو روکنے اور ختم کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ وہ مختلف حربوں سے اُسے روکنے، غلط ثابت کرنے اور ٹالنے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ کبھی اُس کے کردار پر اُنگلی اُٹھاتے، کبھی اُسے بادشاہ کے خلاف باغی کہہ کر اِلزام لگاتے اور کبھی اُسے لوگوں کو ورغلانے والاکہتے۔ بلآخر وہ اپنےمقصد میں کامیاب ہو جاتے۔مقامی لوگوں اور گروہوں کو ورغلا کر اُسے جھوٹے اِلزام میں پکڑ لیتے ہیں اور پھر اُ سے بھیڑ میں لے جا کر مار ڈالتے ہیں۔ جن لوگوں نے بادشاہ کے پیغام کا یقین کیا ہوتا ہے وہ بہت کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح اُس کو بچا سکیں لیکن وہ بھی ناکام رہے ۔ یہ خبر جنگل میں آگ کا مانند بہت تیزی سے پھیل گئی ۔ اِس واقعے کے بعد اَور بہت سے لوگوں کو بھی بادشاہ کے اُس بُلاوے کی کہانی کی سمجھ آنے لگی۔
جو لوگ بادشاہ کے پیغام پر ایمان لائے تھے، اُنہوں نے فوری خبر بادشاہ کے محل تک پہنچائی ، اپنے قبیلوں میں بھی اُس بات کی منادی کی کہ وہ سچ میں بادشاہ کا کارِ خاص تھا جسے چند شاہی وزیروں کی بغاوت اور ہمارے اپنے لوگوں کی سخت دِلی نے قتل کر دیا۔ یوں اَور بہت سے لوگ اُس خوش خبری پر اِیمان لائے اور بادشاہ کا شکر کرنے لگے۔ جب بادشاہ کو خبر ملی تو وہ بہت بے دِل اور غمگین ہوا۔ اُس نے اُس واقعے کی تحقیق کروا کر نہ صرف اُن باغی وزیروں کو سخت سزائیں دیں بلکہ اُن شدت پسند اور سر کشی لوگوں کی بھی عدالت کی۔
اِختتام
لیکن بادشاہ اِس بات سے خوش بھی ہوتا ہے کہ آخر کار وہ پیغام جو کئی دہائیوں سے دبا ہوا تھا اور کئی اِنسانوں اور باغیوں کی وجہ سے اُن لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہا تھا وہ آج مکمل ہوا۔ یوں بادشاہ نے اپنے دوست علیم کے ساتھ محبت کا سچا ثبوت دیا۔ اُس کی نا فرمانی کی قیمت اُس نے اپنے کارِ خاص کی جان دے ادا کر دی۔ اب جو کوئی بھی اُس شاہی دعوت نامے کو قُبول کرتا جاتا وہ واپس محل میں جا سکتا تھا لیکن جو کوئی اُس دعوت نامے کو قبول نہ کرتا وہ اُن باغیوں اور سرکش لوگوں میں شما ر کردیا جاتا۔ بادشاہ نے پھر فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کی کیوں کہ وہ کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا تھا بلکہ وہ تو چاہتا تھا کہ وہ باقی لوگ بھی اپنی بغاوت سے توبہ کر کے اُس دعوت کو قبول کریں اور بچ جائیں۔ تو بھی یہ فیصلہ ہر ایک شخص پر چھوڑا گیا کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا تو سب کو مجبور کر سکتا تھا لیکن وہ محبت کے اُصول کو سامنے رکھتا ہے کہ اگر کوئی میری علیم کے ساتھ اُس محبت کو قُبول کرے اور اپنی رضا مندی سے واپس آنا چاہے تو آ جائے۔ ورنہ ایک دِن آئے گا جب سب کی عدالت کی جائے گی اور ہر ایک کے کام کے موافق اُس کا اِنصاف کیا جائے گا۔
اِطلاقی سبق
مِیں اور آپ بھی اُسی علیم (حضرت آدم) کے خاندان میں سے ہیں جو کسی وقت میں بادشاہ (خدا) کے ساتھ محل (باغِ عدن، جنت) میں رہتا تھا۔ لیکن ایک نا فرمانی کی وجہ سے وہاں سے نکال دیا گیا۔ کئی صدیوں تک خدا مختلف وزیروں (فرشتوں ، اِنبیائے کرام) کے ذریعے اِنسان سے بات کرنے اور واپسی کی دعوت دیتا رہا لیکن کچھ باغی وزیر وں (شیطان اور باغی فرشتے) اُس خوشی کی خبر کو توڑتے مروڑتے اور روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ اِدھر اِنسان اپنی بغاوت اور سر کشی میں خود اپنی کوشش سے واپس جانے کے لئے متلاشی رہا۔ خدا نے اپنے کارِ خاص (حضرت عیسیٰ مسیح) کو اِس دُنیا میں بھیجا ۔ وہ اپنیساری آسمانی شان و شوکت کو چھوڑ کر زمین پر مجسم (کلمہ اللہ، رُوح اللہ ) ہو کر آ گئے تاکہ بھٹکے ہوئے اور سرکش لوگوں کو ابدی ہلاکت اور باغی وزیر وں ( شیطان) کی حاکمیت سے چھوڑا کر واپس محل (خدا کی بادشاہی) میں لے جائے۔
شیطان نے بادشاہ کے کارِ خاص (حضرت عیسیٰ مسیح ) کو اِنسانوں کے ذریعے مروا ڈالا لیکن یہ ہی دراصل بادشاہ (خدا ) کا منصوبہ تھا کہ جہاں پر علیم کو سزائے موت دی جانی تھی اُس کی جگہ وہ کارِ خاص (حضرت عیسیٰ مسیح ) موت کا دُکھ برداشت کرے۔ لہٰذ ا اُنہوں حضرت عیسیٰ مسیح نے خو د رضاکارانہ طور پر پیش کیا ۔
لکھا ہے:
’’”وہ کتابِ کے مطابق صلیب پر موئے، دفن ہوئے اور کتابِ مقدس کے مطابق تیسرے دِن مردوں میں سے جی اُٹھے‘‘
اب جو کوئی اُن کے پیغام (واپسی کے لئے دعوت نامہ ) پر ایمان لائے گا وہ بادشاہ (خدا ) کے پاس اُس محل (آسمان کی بادشاہی ، جنت ) میں واپس جا سکتا ہے۔ اُسے کچھ بھی قیمت ادا کر نے کی ضرورت نہیں کیوں کہ بادشاہ (خدا ) نے اپنے کارِ خاص (حضرت عیسیٰ ) کے ذریعے وہ ادا کر دی ہے۔ ایک دِن آئے گا جب خدا سب کی عدالت کرے گا اور جو اُس کے پیغام پر ایمان لائے گا وہ بچ جائے گا لیکن جو کوئی اب بھی باغی، سرکش اور باغی وزیروں (شیطان) کے ساتھ ملا رہے گا اور دُنیا کی رنگینیوں (گناہ) میں مبتلا رہے گا وہ ہلاک کر دیا جائے۔
کیا آپ بھی بادشاہ کے اُس پیغام پر اِیمان لا کر محل میں واپس جانا چاہیں گے؟